7

زرداری، نواز کا یوٹرن اور مولانا کی مجبوری

پی ڈی ایم بننے سے پہلے اُس میں شامل جماعتوں کی پوزیشن کو دیکھتے ہیں۔ اُن دنوں پیپلز پارٹی برہم اور خوفزدہ تھی کیونکہ اُس کے ساتھ ہونے والی ڈیل کی باقی شقوں پر عمل نہیں ہوا تھا۔ زرداری خاندان کیخلاف کیسز کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی اور یوں لگ رہا تھا کہ فالو اپ کرکے اُن کو سزائیں دینے کی تیاری بھی ہورہی ہے۔

سندھ حکومت چھیننے کے بھی اشارے مل رہے تھے۔ یوں زرداری اور بلاول نظریاتی ہونے کا تاثر دینے لگے۔ اُس وقت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا بھی ذہن بن گیا تھا کہ اُس کے ساتھ ہونے والی ڈیل کی شقوں پر عمل نہیں ہورہا۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ شریف بن کر اور آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے حق میں ووٹ دے کر استعمال ہوئے اور اب دوبارہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں