8

غربت اور ناقص غذا، بچوں کے اوسط قد میں 20 سینٹی میٹرکمی کی ذمے دار

لندن: غربت اور غذا کی کمی بچوں کی نشوونما پر بہت منفی اثر ڈالتی ہے اور یوں وہ ترقی یافتہ ممالک کے بچوں کے مقابلے میں کم قد کے رہ جاتے ہیں۔ اس عمل کو اسٹنٹنگ یا بوناپا کہتے ہیں جس میں بچے اپنے پورے قد تک نہیں پہنچ پاتے۔

اس ضمن میں 193 ممالک کے ساڑھے چھ کروڑ بچوں کا بغور مطالعہ کیا گیا جس میں اسکول جانے والے بچوں کی عمر اور اس لحاظ سے ان کے قد کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ بچوں کا قد ان کی غذا، رہن سہن اور مالی صلاحیت کا بہترین عکاس ہوتا ہے۔

ماہرین نے اونچے ترین اور پست ترین قد والی اقوام کے بچوں کا موازنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ ان کے درمیان اوسط 20 سینٹی میٹر کا فرق ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے لڑکیاں آٹھ برس تک چھوٹی ہیں اور لڑکوں میں یہ فرق چھ برس کی نشوونما کے برابر ہے۔ یعنی بنگلہ دیش اور گوئٹے مالا (جہاں لڑکیوں کا قد سب سے کم ہے) کی 19 سالہ لڑکیوں کا قد نیوزی لینڈ کے 11 سال کے بچوں کے برابر ہے کیونکہ نیوزی لینڈ کے بچے سب سے قدآور ہوتےہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں