6

کورونا کی تباہ کاریاں، عوام اور حکومت

’’کورونا نے دراصل میرے دماغ پر حملہ کیا تھا اور اُس حوالے سے میں نے پہلے کچھ سنا تھا اور نہ سوچا تھا، کئی گھنٹوں تک، میں بات نہ کر پایا، سوچ بھی نہ پایا، میں اپنے الفاظ کھو بیٹھا، یادداشت چلی گئی، شدید پیاس لگ رہی تھی لیکن میرے منہ سے ’’پانی‘‘ لفظ تک نہیں نکل پا رہا تھا، بعد میں مجھے اہل خانہ نے بتایا کہ میں اپنا ہاتھ اور انگلیاں ہلا رہا تھا۔

ڈاکٹرز کے لیے بھی یہ ایک عجیب صورتحال تھی، تمام میڈیکل رپورٹس درست تھیں لیکن کورونا نے مجھ پر عجیب طرح سے حملہ کیا تھا، میری چھوٹی بیٹی نے کہا، بابا درود شریف پڑھیں، میری بیٹی نے پہلی مرتبہ خود میرے لیے درود شریف پڑھا اور اُس کے بعد میں نے درود شریف پڑھنا شروع کیا اور ساتھ ہی دیگر دعائیں بھی، بعد میں مجھے بتایا گیا کہ الحمدللہ میں نے دعائیں پڑھتے وقت کوئی غلطی نہیں کی۔
یہی وہ موقع تھا جب میں نے کورونا کے اپنے دماغ اور نظامِ اعصاب پر جان لیوا حملے سے ریکوری شروع کی، الحمدللہ صرف 24؍گھنٹوں میں، میری یادداشت، ذہنی چوکسی یعنی ہر چیز تقریباً نارمل ہو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں