7

طبی ماہرین نے کورونا کی تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کردیا

کراچی: طبی ماہرین نے ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر آنے کا بھی خدشہ ظاہر کردیا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ 22 جنوری کو جب کورونا کا نام تک پاکستان میں نہیں تھا، اس وقت ہم نے حکومت کو بتایا تھا کہ یہ بیماری پاکستان آئے گی لیکن بد قسمتی سے ہم اسے کنٹرول نہیں کرسکے، دوسری لہر میں 4 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، خطرے کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹرز بھی تیزی سے متاثر ہورہے ہیں، پاکستان میں 154 ڈاکٹرز کورونا کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں تاہم حکومت ڈاکٹرز کی حفاظت کے لئے اقدامات نہیں کررہی۔

ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھاکہ کورونا کی شدید لہر میں احتیاط کی جائے، عوام کسی بھی طرح بھی ایس او پیز پر عمل نہیں کررہے، نہ حکومت ایس او پیز پر عمل درآمد کروا رہی ہے، اب کورونا کی تیسری لہر کا بھی خدشہ ہے، برطانیہ میں بہت خوف پھیل رہا ہے، ہم عوام سے نہیں کہیں گے کہ ایس او پیز عمل کریں، حکومت سے کہیں گے کہ سب مل کر یکساں پالیسی بنائیں، یہ وقت حکومت یا اپوزیشن کے جلسے جلوس کا نہیں ہے، معیشت بھی بچائیں، اسمارٹ یا مائیکرو لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے، تب ہی اس بیماری پر کنٹرول کیا جاسکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں