5

وراثتوں کا جمعہ بازار

میرا شمار پرویز مشرف کے ناقدین میں ہوتا رہا، میں نے اُن پر خوب تنقید کی، اُس کی واحد وجہ آمریت تھی، بحیثیت انسان وہ تنقید کھلے دل سے برداشت کرتے تھے، غلطی کو مان لیتے تھے، روشن خیال اور ذہین تھے، انگریزی بھی شاندار تھی، وہ اینکرز کے سامنے ڈٹ کر جواب دیتے تھے، دنیا کے معاملات اُنہیں ازبر تھے، پریس بریفنگوں میں ناقدین کو بھی مدعو کرتے تھے۔

اُن کی آخری بڑی پریس بریفنگ میں یہ خاکسار مرحوم عباس اطہر کے ساتھ بیٹھا تھا، عباس اطہر مرحوم کمال کے جملہ باز تھے، اُس دوران بھی اُن کے جملے جاری رہے۔ پرویز مشرف بہت سے جمہوری بادشاہوں سے بہتر تھے، اُن کی سوچ بادشاہوں جیسی نہیں تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں