5

آج کے لئے 16دسمبر کے سبق

مشرقی پاکستان چوبیس برس مملکتِ پاکستان کا حصّہ رہا۔ اِسی سرزمین پر 1906میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ مسلمانوں کے اِس عظیم اجتماع کے بندوبست میں جناب نواب سلیم اللہ نے کلیدی کردار اَدا کیا تھا۔ قائدِاعظم کی قیادت میں برِصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا اور چوبیس برسوں کے اندر ہی دولخت ہو گیا۔ اِن چوبیس برسوں میں وہ کیا کیا واقعات رُونما ہوئے جو پاکستان کی شکست و ریخت کا باعث بنے، اُن کا دو چار کالموں میں احاطہ بہت مشکل ہے، تاہم سمجھ دار لوگوں کے لئے اشارے ہی کافی رہیں گے۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ قائدِاعظم ایک پارلیمانی اور وفاقی مملکت کے خواہاں تھے جو اسلام اَور جمہوریت کے بلند اصولوں اَور مسلمہ روایات پر قائم ہو۔ اُنہوں نے اپنی تمام تر سیاسی جدوجہد میں جمہوری تقاضوں کا پورا پورا خیال رکھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے مجاز اِداروں سے مشاورت کے ساتھ ہر بڑا قدم اُٹھایا۔ ایک موقع پر آخری وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قائدِاعظم سے ایک اہم ترین ملاقات میں کہا کہ ہندوستان میں دو خودمختار اَور آزاد رِیاستوں کے قیام کا فیصلہ ہو گیا ہے جس کے لئے فوری طور پر آپ کی منظوری دَرکار ہے۔ اُنہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا مَیں مسلم لیگ کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلاؤں گا اور اُس کے سامنے تقسیم کا منصوبہ رکھوں گا اور ہم اُس کے فیصلے کے پابند ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں