6

’آرپار‘ کا پوسٹ مارٹم

زبان کو اگر عجائب گھر مان لیا جائے تو لفظ اس میں آراستہ عجوبے کہلائیں گے۔کہاں کہاں سے چلے ہوئے ، نہیں معلوم کب دریافت ہوئے،کوئی نہیں جانتا کہ ان کی اصل حقیقت کیاہے؟ بس ہم یہ سب سوچنے کی کھکیڑ میں نہیں پڑتے البتہ ایک بات جانتے ہیں۔

لفظ کبھی کبھی قرنطینہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔ وہ کہیں گم ہوجاتے ہیں، نہ سننے میں آتے ہیں نہ پڑھنے میں۔ اچانک کہیں کوئی اپنے زور خطابت میں کوئی بھولا بسرا لفظ ایسے زور و شور سے ادا کرتا ہے کہ لفظ جی اٹھتا ہے اور وہی لفظ جو بے جان ہو کر پڑا تھا، تازہ دم ہو کر بولنے والوں کے لبوں پر آ جاتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ زبان زدِ عام ہوجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں