7

جب ضمنی الیکشن تماشا بن گیا

16دسمبر آیا اور چلا گیا۔ اخبارات میں 16؍دسمبر 1971کو پاکستان کے دو لخت ہونے کے متعلق کچھ مضامین شائع ہوئے اور ٹی وی چینلز پر آرمی پبلک اسکول پشاور کے اُن 141بچوں اور اُساتذہ کو یاد کیا گیا جنہیں 16؍دسمبر 2014 کو افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے شہید کر دیا تھا۔ اِن دونوں سانحوں میں 43برس کا فاصلہ ہے لیکن یہ دونوں ایک ہی دن رونما ہوئے۔ دونوں سانحوں میں ایک اور پہلو بھی مشترک ہے۔

پاکستان ٹوٹنے کی وجوہات پر جسٹس حمود الرحمٰن کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا گیا جس نے اپنی رپورٹ میں سانحے کے ذمہ داروں کی نشاندہی کر دی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے یہ رپورٹ دبا دی اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور آخر کار وہ خود ایک فوجی کارروائی کا نشانہ بن گئے۔ یہ رپورٹ پرویز مشرف کے دور حکومت میں منظر عام پر لائی گئی جب سقوطِ ڈھاکہ کے اکثر کردار وفات پا چکے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں