7

ہیش ٹیگ کی بھی اخلاقیات ہونی چاہئیں

9 دسمبر 2020 کے روز پاکستانی سوشل میڈیا کی تاریخ میں اب تک کے تین بیہودہ ترین ہیش ٹیگز ٹرینڈ کررہے تھے۔ اردو میں تخلیق کیے گئے یہ تینوں ہیش ٹیگز جس اخلاقی گراوٹ کے مظہر تھے، اس سے زیادہ اخلاقی پستی کا ثبوت وہ ہزاروں لوگ دے رہے تھے جو اِن ہیش ٹیگز پر تنقید کرنے، یا پھر اپنی غیر متعلقہ پوسٹس کو سوشل میڈیا پر مقبول بنانے کےلیے یہی ہیش ٹیگز جگہ بے جگہ استعمال کررہے تھے۔ سچ کہوں تو اُس روز مجھے یوں لگا جیسے صارف ذہنیت نے ٹیکنالوجی کے خنجر سے اخلاقیات کا خون کردیا ہو اور انسانی شکل والے حیوانوں کا ریوڑ، اخلاقیات کا جنازہ اٹھائے کسی نامعلوم قبرستان کی سمت رواں دواں ہو۔

ایسے میں یہ مطالبہ مکمل جواز رکھتا ہے کہ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ ’’ہیش ٹیگز‘‘ کو بھی اخلاقیات کا پابند بنانا ضروری ہے ورنہ پانی سر سے اونچا ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اب اس کےلیے قانون سازی کی جائے یا نئے ادارے بنائے جائیں، یہ ایک الگ بحث ہے لیکن اگر سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی بداخلاقی کو نہ روکا گیا تو شاید ’’قعرِ مذلّت‘‘ کا استعارہ بھی ہماری اخلاقی پستی کی ترجمانی نہیں کرسکے گا۔

بہت سی دوسری تبدیلیوں کی طرح آج ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک معصوم سا ہیش ٹیگ کس طرح ایک خطرناک ہتھیار میں تبدیل ہوگیا… یا یہ کہ تبدیل کردیا گیا۔ یہ غیر دلچسپ تحریر بھی اسی بارے میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں