5

سعودی عرب: ملازمین کے لئے نیا قانون اجرت کیا ہے؟ ویب ڈیسک 14 دسمبر 2020

ریاض: سعودی عرب نے ہوٹلوں اور دیگر اداروں میں فی گھنٹہ اجرت کا قانون متعارف کرادیا ہے، قانون متعارف کرانے کا مقصد سعودائزیشن کے اہداف حاصل کرنا ہیں۔

سعودی وزارت افرادی قوت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’سافٹ روزگار سسٹم ‘ (نظام العمل المرن) سے نجی شعبے کو کافی فائدہ ہوگا جس کے تحت انہیں نہ صرف سعودائزیشن کے اہداف حاصل کرنا آسان ہوجائیں گے بلکہ کارکن کے دیگر حقوق بھی انکے ذمہ نہیں ہونگے۔
سافٹ ورکنگ سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے وزارت افرادی قوت کا کہنا تھا کہ اس سسٹم کے تحت آجر سعودی کارکنوں کی خدمات ’فی گھنٹہ‘ اجرت کے تحت حاصل کرسکیں گے۔

ویب نیوز ’سبق‘ نے وزارت افرادی قوت کے حوالے سے مزید کہا کہ اس سسٹم کے تحت کمپنیوں میں سعودی کارکن عارضی اور وقتی بنیاد پر حاصل کیے جاسکیں گے، اور نظام العمل المرن کے تحت حاصل کیے گئے کارکن کو ’نطاقات ‘ پروگرام میں ایک تہائی حصہ کے طور پر شمار کیا جائے گا جو آجر کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں