5

مشیروں اور معاونین سے متعلق عدالتی فیصلے کے بعد حکومت نئی مشکل میں پھنس گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مشیروں و معاونین کے کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی اور رکن ہونےکو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کے بعد حکومت ایک اور قانونی مشکل میں پھنس گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مشیروں کے کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی اور رکن ہونا غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کے بعد جیو نیوز نے سرکاری مؤقف اور موجودہ کابینہ کمیٹیوں کی تفصیلات حاصل کر لیں جس کے مطابق تمام کابینہ کمیٹوں میں مشیر یا معاونین خصوصی بطور چیئرمین یا رکن شامل ہیں۔

یہ تمام کابینہ کمیٹیاں وزیراعظم عمران خان نے رولز آف بزنس 1973 کے تحت حاصل اختیار کے تحت تشکیل دیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے مشیروں اور معاونین کے کابینہ کمیٹیوں کی سربراہی اور رکن ہونا غیر قانونی قرار دینے کا فیصلے کے بعد حکومت ایک اور اہم قانونی مشکل میں پھنس گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں