7

پشاور ہسپتال میں آکسیجن کی سپلائی بند: ’دو سالہ بیٹا تڑپتے ہوئے چلا گیا‘

’وہ آکسیجن کے لیے تڑپ رہا تھا اور اپنے منہ سے آکسیجن ماسک اتارنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ اسے قدرتی ہوا تو مل سکے لیکن ڈاکٹرز کو پتہ نہیں تھا کہ آکسیجن کا مسئلہ پیدا ہوا ہے اور میرا پھول جیسا بچہ تڑپتے تڑپتے دنیا سے چلا گیا۔‘

یہ کہنا تھا پشاور شہر میں ریگی سے تعلق رکھنے والے سمیع اللہ کا، جن کا دو سالہ خون کے کینسر میں مبتلا بیٹا صارم پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے چلڈرن آئی سی یو میں دو دنوں سے زیر علاج تھا۔

سمیع اللہ نے الزام لگایا کہ ان کا بیٹا ہفتے اور اتوار کے درمیانی شب ہسپتال میں آکسیجن سپلائی معطل ہونے کی وجہ سے وفات پا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا گذشتہ آٹھ مہینوں سے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھا لیکن وہاں پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اسے سرکاری ہسپتال کے ٹی ایچ ریفر کر دیا تاکہ اسے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کرایا جائے۔

سمیع اللہ نے بتایا کہ ’دو دنوں سے وہ آئی سی یو میں موجود تھا اور ڈاکٹرز کہہ رہے تھے کہ اس کی حالت بہتر ہو رہی ہے، آج یعنیٰ اتوار کو اسے خوراک دینا بھی شروع کریں گے لیکن جس ہسپتال میں آکسیجن کے لیے آئے تھے اسی ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کا واقعہ پیش آ گیا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں