6

ابراہم معاہدہ فلسطینیوں کے لیے موقع ہے: اسرائیل

اسرائیلی وزیر خارجہ گبی اشکنیزی نے کہا ہے کہ اسرائیل کا دو خلیجی ریاستوں کے ساتھ طے پانے والا ’ابراہم معاہدہ‘ فلسطینیوں کی قیمت پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ ان کے لیے ایک موقع ہے۔

اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور بحرین نے کئی دہائیوں کے بعد اسرائیل کو تسلیم کر کے اس عرب اتفاق رائے سے انحراف کیا ہے جس کے تحت مسئلہ فلسطین حل نہ ہونے تک تل ابیب کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔ فلسطینی رہنماؤں نے ان دو خلیجی ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو اپنی ’پیٹھ میں خنجر گھونپے‘ جیسا عمل قرار دیا ہے۔

اتوار کو بحرین کے درالحکومت منامہ میں جاری سکیورٹی کانفرنس میں اسرائیلی وزیرخارجہ نے کہا کہ 2014 میں دونوں فریقین کے مابین مذاکراتی عمل منجمد ہونے کے بعد یہ سفارتی تبدیلی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعات کے حل میں مدد دے سکتی ہے۔

اپنے ورچوئل خطاب میں انہوں نے کہا: ’ابراہم معاہدہ فلسطینیوں کی قیمت پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک ایسا موقع ہے جس سے انہیں محروم نہیں رہنا چاہیے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں